پاکستانیوں کی عجیب خصوصیات
ہمارے پاکستانیوں میں کچھ عجیب خصوصیات ایسی ہیں جن کی مثال باقی دنیا میں
ذرا کم ہی ملتی ہے. ویسے تو پاکستانیوں کی بہت سی خصوصیات ہیں لیکن یہ بہت
سے ایسے کام بھی کرتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں کم ہی لوگ کرتے ہیں اور جو
عجیب وغریب بھی ہوتے ہیں.لیکن ذہن میں رہے کہ ایسا سارے پاکستانی نہیں
کرتے. لیکن آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے تو آپ کو یہ خصوصیات ضرور نظر
آئیں گی جو دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے عجیب اور حیران کن ہو سکتی ہیں.
کچھ دیسی پاکستانیوں کی نشانی ہے کہ کہ وہ جب بھی ریسٹورنٹ جائیں گے وہاں
سے واپسی پر کیچپ کے ساشے یا پھر ٹشو پیپر ضرور اپنے ساتھ رکھ کر لائیں گے۔
ایک سچا پاکستانی کبھی بھی سیٹ بیلٹ استعمال نہیں کرے گا بلکہ اس کو وہ
فضول کام کہے گا۔
اکثر پاکستانی والدین کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ ایک دن میں چار سے
زائد کپ چائے کے پیتے ہیں۔
ایک جملہ جو پاکستانی والدین اپنے بچوں کو کوئی بات سمجھاتے ہوئے ضرور
بولتے ہیں کہ"جب ہم تمہاری عمر کے ہوتے تھے تو ایسے کرتے تھے ویسے کرتے
تھے۔
دیسی پاکستانیوں کے فریزر میں رکھےآئس کریم باکس میں آئس کریم نہیں بلکہ
منجمد سبزیاں ملتی ہیں۔
اس طرح ان کے پاس موجود کوکیز یا بسکٹ کے ڈبے میں سلائی کڑھائی کے آلات آپ
کو ضرور نظر آتے ہیں۔
خالص پاکستانی ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ پاکستانی والدین اپنے بچوں
کے کپڑے ان کے سائز سے کچھ زیادہ بڑے خریدتے ہیں کہ "آخر بچوں کا سائز بھی
توبڑھ رہا ہے "اگلے سال بھی کام آئیں گے
پاکستانی ایک پلاسٹک بیگ میں متعدد پلاسٹک بیگز سنبھال کر رکھنے کی صلاحیت
رکھتے ہیں اور یہ ایک پلاسٹک بھی الماری کی کسی درازمیں محفوظ ہوتا ہے۔
دیسی پاکستانی اپنے مقام پر دیر سے پہنچتے ہیں اور رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے
سب نارمل ہے۔
پاکستانی ہر طرح کے چٹ پٹے اور مرچ مصالحوں سے بھرپور کھانے کھانے میں
بہت ماہر ہوتے ہیں۔
دیسی پاکستانیوں کی ایک واضح نشانی ؛جب آپ بیمار پرجائیں تو ہر کوئی حکیم
بن جاتا ہے اور ہر کوئی آپ کو گھریلو ٹوٹکے بتانا شروع کر دیتا ہے۔
ریموٹ کنٹرول کو متعدد بات پٹخ کر چلا لیں گے لیکن اس کی مردہ بیٹری کو
تبدیل نہیں کریں گے جب تک وہ بالکل جواب نہ دے دے۔
یہ کپڑے کا پیچھا آسانی سے نہیں چھوڑتے. پہلے شرٹ بڑا بھائی پہنتا ہے,پھر
چھوٹا,یہاں تک کہ آخر میں وہ شرٹ صفائی کرنے کے کام آتی ہے۔
پاکستانیوں کے چہرے کے تاثرات اس وقت اچانک بدل جاتے ہیں جب ان کے گھرمیں
کوئی مہمان جوتوں سمیت قالین والے کمرے میں داخل ہو جائے۔
یہ صابن کا استعمال اس وقت تک کرتے ہیں جب تک کہ وہ نظر آنا بندنہیں ہو
جاتا.یا جب صابن چھوٹا رہ جاتا ہے تو اس کو نئے صابن کے ساتھ چپکا کر اس کا
استعمال ترک نہیں کرتے.

