اپنے
بچے کا رونا سنکر والدین کا پریشان ھونا ایک فطری عمل ھے۔ جب آپکا بچہ
روتا ھے تو آپ اسکی ھر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ھیں۔ جب آپکا بچہ روتا
ھے اور جواب میں آپ پریشان ھوتے ھیں تو یہ آپ کی پہلی مشترکہ زبان ھوتی
ھے۔جب آپکا بچہ اپنے رونے کے جواب میں آپ کا پیار پاتا ھے تو آپ کو اچھا
محسوس ھوتا ھے۔ جب آپ کا بچہ لگاتار بغیر کسی وقفے کے روتا ھے اور چپ ھونے
میں نہیں آتا تو آپ مایوس اور پریشان ھو جاتے ھیں۔ ذیل کی معلومات آپ کو یہ
سمجنے میں مدد دیں گی کہ بچہ کیوں روتا ھے
پہلے تین مہینوں میں ھم بچوں کے رونے کے بارے میں کیا جانتے ھیں؟
کچھ بچے دوسروں سے زیادہ روتے ھیں*
بچے زیادہ تر بعد دوپہر یا شام کے شروع میں زیادہ روتے ھیں*
تمام بچے اپنی زندگی کے پہلے تین مہینوں میں زیادہ روتے ھیں اور بعد مین کم ھوتے جاتے ھیں*
ریسرچ سے معلوم ھوا ھے کہ پہلے تین مھینے میں بچہ ترقیاتی نمونے پر عمل
کرتا ھے۔ اسکو رونے والی کرو یا گراف کہتے ہیں۔ پہلے دو یا تین ہفتے میں
بچے کا رونا زیادہ ھوتا جاتا ھے۔ چھ سے آٹھ ھفتے میں یہ بلندی تک جا پہچتا
ھے اور پھر آہستگی سے بارہ ھفتے تک کم ھو جاتا ھے۔ کچھ دوسری ریسرچ رونے
میں بلندی کا وقت مختلف بتاتی ھے لیکن اس بات پر سب متفق ھیں کہ رونے کا
زیادہ عرصہ تین مھینے کی عمر تک ھوتا ھے
یہ کہنا مشکل ھے کہ پہلے تیں مھینے میں ھی بچہ کیوں روتا ھے، وہ بغیر
کسی پیشگی اطلاع کے رونا شروع کرتا ھے اور بند کرتا ھے۔ اور پھر آپکے پیار
یا دودھ پلانے کا بھی کوئ اثر نہین لیتا۔
رونے کے مختلف انداز کا مختلف مطلب؟
ساینس دانوں کے درمیان اس بات پر احتلاف پایا جاتاھے کھ شروع کے دنوں میں بچے کا مختلف انداز میں رونے کا مختلف مطلب ہوتا ہے۔ لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کھ بچے کا رونے میں ایک ایک پیغام ھوتا ھے ، جیسے چیخ کر رونے کا مطلب اسکی پریشانی کو ظاہر کرتا ھے لیکن پھر بھی ہمیشہ ایسا نین ھوتالیکن پھر بھی آپ بچے کے رونے کی آواز سے اسکی ضرورت کا صحع اندازہ کر سکتے ہیں۔ تین مہینے کی عمر میں بچہ آپکے ساتھ منسلک ھو جاتا ھے۔ بچہ رونے کے مختلف طریقے استعمال کرتا ھے۔ یہ تبریلی بچے کی ملنساری کی بڑھتی ھوئ صلاحیت کو ظاہر کرتی ھے۔یہاں بچوں کے رونے کے متعلق عمومی معلومات دی جاتی ہیں
بھوک
آپکا بچہ پہلے آہستہ سے رونا شروع ھوتا ہے پھر بتدریج آواز بڑھتی جاتی ھے۔اکر آپ نے ابھی بچے کو دودھ پلایا ھے تو ٹھیک ورنہ اس بات کا خیال رھے کہ بچہ بھوکا نہ رھے۔ اگر ایسی بات ھے تو بچے کو دوبارہ دودھ پلایئںدرد
خصوصی درد کی وجہ سے رونےوالی جو آوازنکلتی ھے اس میں تیزی، سختی، غیر سریلا پن ، چھوٹا وقفہ ھوتا ھےاضطرابی کیفییت
جب آپکا بچہ پریشان ھو تو وہ ہلکی آواز اور وقفوں کے ساتھ بھی رو سکتا ھے، زیادہ تر بچوں کے لئے رونے کا وقت بعد دپہر یا شام کا پہلا پہر ھوتا ھے۔ بے چینی کے رونے اور بھوک کے رونے میں فرق ھوتا ھے۔ اس طرح کے رونے میں آواز آہستہ آہستہ بلند ھوتی ھے۔ اسکی کچھ وجوھات تو وہ ھو سکتی ھیں کو ذیل میں دی گئ ہیں
نوزایئدہ بچے چھوٹی سی جگہ سے آتے ہیں اس لئے کھلا ماحول یا جھولا انہیں ڈرانے لگتا ھے
گیلا ڈائپر بھی بچے کی بیچینی میں اضافہ کرتا ھے
بعض اوقات بچہ تھکا ھوتا ھے اور اگر وہ سو نہ سکے تو پریشان ھو جاتا ھے
آپکے بچے میں کچھ کرنے کی کم یا زیادہ تحریک پیدا ھوتی ھے۔ اس مضمون سے
یہ فیصلہ کریں کہ بچے سے آپ نے اپنا تعلق کم یا زیادہ کرنا ھے یا بچے کے
ماحول میں میوزک یا روشنی میں اضافہ کرنا ھے
جب آپکا بچہ رو رھا ھو تو آپ اپنے آپ کوُ پر سکون رکھنے کی کوشش کیجیے۔
اس طرح سے آپ بچے کا پیغام اچھی طرح سے سمجھ سکتے ھیں۔ آپنے غصے کو ٹھنڈا
رکھیے اور اپنے بچے سے نرمی سے بات کیجیے۔
معمول کے خلاف رونے کا عمل
عام بچوں سے تین گنا زیادہ رونا اور لگاتار رونا بعض مواقع میں آہستہ رونا اور لگاتا رونا، یہ ظاھر کرتا ھے کہ بچے کو کوئ شدید بیماری ھے ۔ اس طرح کا رونا عام بچوں کے رونے سے مختلف ھوتا ھے۔ اس طرح کے شدید رونے کو کولک بچے کے رونے سے مکس نیئں کرنا چاھیےرونا: آپ کیا کر سکتے ھیں
یہ کہنا بے سود ھے کہ آپکا بچہ کتنی مقدار میں روتا ھے۔ لیکن یہ آپکے اعصاب کا امتخان ھے خاص طور پر جب آپ تھکے ھوئے ھوتے ہیں ۔ یہاں کچھ ایسے نکات ہیں جو بچے کو چپ کرانے میں آپکی مدد کر سکتے ہیں
اس بات کو تسلیم کرنا ھو گا کہ جسم کو چھونے میں طاقت پنہاں ھے۔ جب بچے
پریشان ھوتے ہیں تو چھونے سے وہ آرام محسوس کرتے ھیں۔ بچے کو چھونے سے
اسکا دباو کم ھوتا ھے اسے محسوس ھوتا ھے کہ وہ محفوظ ھے اور جب وہ محفوظ
محسوس کرتا ھےتو وہ پرسکون اور آرام رہ محسوس کرتا ھے۔ اپنے بچے کو گود لیں
جس سے اسکا رونا کم ھو گا۔ اپنے بچے کے لئے سلنگ یا اٹھانے والا جھولا
استعمال کریں اور نو زائیدہ کو حتی لامکاں اپنے ساتھ رکھیں
آپنے بچےکے جدول کے مطابق چلنے کی کوشش کریں۔ اگر آپکے بچے کا اضطرابی
وقت شام کا ھے تو اس وقت آپ اپنی کوئ مصروفیت نہ رکھیں اور اپنے کھانے کا
وقت اسی حساب سے آگے پیچے کر لیں
اپنے بچے سے تھوڑی دیر کے لئے علیہدگی اختیار کریں۔ کوئ ایسا پڑوسی یا
دوست تلاش کریں جو کچھ دیر کے لئے بچے کو سنبھال سکے تا کہ آپ کچھ دیر کے
لئے باھر پیدل ٹہلنے کے لئے جا سکیں۔ اس بات کا فکر نہ کریں کہ اس عرصے میں
بچہ روتا ھے یا تنگ کرتا ھے۔ اگر آپ اکیلی ہیں اور بہت زیادہ پریشان اور
مایوس ہیں تو چند منٹ کے لیے اپنے بچے کو جھولے میں ڈال کر گھر کے پایئں
باغ میں جا سکتی ہیں
اگرآپ کا بچہ رات کو روتا ھےتو آپ حصوصاْ اس وقت سونے کی کوشش کریں جس
وقت آپ کا بچہ سو رھا ھو۔ اگر ممکن ھو تو اپنے کسی دوست کو ایک دو گھنٹے کے
لیے بچے کی نگرانی کے لیے بلایئں تا کہ آپ سو سکیں
آگر موسم اچھا ھو تو بچے کو بچہ گاڑی میں ڈال کر باھر لے جا یئں یا پھر اپنی کار میں سیر کرایئں
اس بات میں کوئ شک نہیں کہ کچھ بزرگ آپ کو یہ درس دیں گے کہ جس طریقے سے
آپ اپنے بچے کے رونے کا جواب دیتی ھیں وہ بچے کو خراب کرنے کے مترادف ھے
لیکن آپ تسلی رکھیں کہ آپ نو زائیدہ بچے کو خراب نہیں کر رھیں جب آپ تیزی
سے اسکے رونے کا جواب دیتی ھیں تو بچہ اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کرتا ھے
اور سوچتا ھے کہ آپ اسکی حفاظت کے لئے موجود ہیں آپ کو اس بات فخر ھونا
چاھیے آپ اپنے والدین ھونے کا فرض بخوبی نبھا رھے ھیںدوسروں کی باتوں کا
خیال نہ کرہں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ آپ کے بچے کی اصل ضروریات کیا ھیں
